An interesting story of an old woman and the windایک بوڑھی عورت اور ہوا کی ایک دلچسپ کہانی

 



ایک بڑھیا جس کا اٹا ہوا اڑا کر لے گی اور اس بڑھیا نےکیسے اس ہوا سے اپنا قصاص طلب کیا اورہوا نے بڑھیا کے آٹے سے کیا کام لیا تھا آئیے اس دلچسپ  واقعے کے بارے میں جانتے ہیں۔ 

An Old woman whose flour will be blown away and how this old woman demanded his retribution from this wind and what did the wind do with the old woman's flour? Let us know about this interesting incident.

مختصر تعارف 

یہ واقعہ حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے کا ہے ۔ایک دن یوں ہوا کہ ایک بڑھیا حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئی اور وہ آکر یہ بولی:" اے خلیفہ خدا ! میں بڑھیا ہوں اور نہایت ضعیف اور غریب ہوں ۔ ایک روز اپنے بچوں کے لئے محنت کرکے اپنے سر پرآٹا لا  رہی تھی تو اسی وقت ہوا اتنی تیز چلی کے میرے سر پر جو آٹا  تھا وہ سب اڑا کر لے گئی وہ میرے بچے بھوکے رہ گئے آپ اس کا کچھ انصاف کیجئے اگر ممکن ہو تو اس سے میرا آٹا دلوا دیجئے۔" یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا اے بڑھیا ہوا پر میرا حکم نہیں چلتا اور میں کیوں ہوا  سے تجھ کو اٹھا دلوا دوں۔ میں اس کے بدلے اپنی طرف سے اٹھا دیتا ہوں تو اس کو لے جا یہ سن کر بڑھیا خوش ہوئی اور آٹا لے کر دعا کرتی ہوئی چلی۔ 

Brief introduction

This incident is from the time of Hazrat Dawood (as). One day an old woman came to Hazrat Dawood (as) and she came and said: "O Caliph of God! I am old and very weak and poor. One day my children and I were working hard to get flour on my head, but then the wind blew so fast that all the flour on my head was blown away. My children were left hungry. Do some justice to it. Get it. " Upon hearing this, Hazrat Dawood (as) said: O old woman, my command does not work and why should I lift you up from the wind. I would pick it up on my own in return, so take it away.

حضرت سلیمان علیہ السلام کا مشورہ

تو دروازے پر حضرت سلیمان علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بڑھیا کو دیکھ کر پوچھا :"اے بڑھیا تو کیوں آئی تھی فریاد کرنے آئی تھی یا آٹا مانگنے کو"وہ بولی :"فریاد کرنے آئی تھی تو حضرت داؤد علیہ السلام نے انصاف کیا کہ اپنی طرف سے مجھے آٹا دے د یا۔" حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ کیا معاملہ ہے؟ تب اس بڑھیا نے بیان کیا۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑھیا سے کہا تم جاؤ خلیفہ خدا سے کہو کہ میں تو ہوا سے قصاص چاہتی ہوں آپ سے آٹا نہیں مانگتی۔ یہ سن کر بڑھیا  واپس حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس گئی اور ان سے جاکر کہا میں تو ہوا سے اپنا قصاص مانگتی ہوں آٹا نہیں مانگتی یہ سن کرحضرت داؤد علیہ السلام نے اس بڑھیا سے کہا : "اے بڑھیا ! تو مجھ سے دس من آٹالے جا پر ہوا سے انتقام  مت لے کیونکہ میری حکومت ہوا پر نہیں چلتی کہ میں اس کو پکڑو ں اور اس سے تیرا  انتقام حاصل کروں۔" پھر بڑھیا دس من آٹا لے کر اور خوش ہو کر حضرت داؤد علیہ السلام سے رخصت ہو کر دروازے پر جب آئی تو پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے کہا:"اے بڑھیا تو کیوں بغیر  فیصلہ کے جاتی ہے پھر جا خلیفہ کو کہو میں ہوا سے اپنا قصاص چاہتی ہوں ۔" بڑھیا پھر حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئی اور ان سے وہی باتیں جا کر کہیں جو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑھیا سے کہی تھیں۔ باتیں سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا:" تجھے یہ باتیں کس نے بتائی ہیں ؟وہ بولی کے دروازے پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بتائی ہیں۔ 

The advice of Hazrat Sulaiman (as)

So Hazrat Sulaiman (as) was sitting at the door. He looked at the old woman and asked: Give me flour on your behalf. " Hazrat Sulaiman (as) said: What is the matter? Then the old woman explained. So Hazrat Sulaiman (PBUH) said to the old woman: Go and tell the Caliph of God that I want retribution from the wind, I do not ask you for flour. On hearing this, the old woman went back to Hazrat Dawood (as) and said to him: I ask for revenge from the wind, I do not ask for flour. Hearing this, Hazrat Dawood (as) said to this old woman: Don't take revenge on the wind because my government does not run on the wind so I can catch it and get your revenge from it. " Then the old woman took ten ounces of flour and left Hazrat Dawood (as) happy and when she came to the door, then Hazrat Sulaiman (as) said to her: I want my revenge from the wind. " The old woman then came to Hazrat Dawood (as) and told him the same things that Hazrat Sulaiman (as) had said to the old woman. Upon hearing the words, Hazrat Dawood (as) asked: "Who told you these things? Hazrat Sulaiman (as) told them at the door of the bid.

ہوا کا بصورت آدمی حاضر ہونا

پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بلایا اور کہا :اے بیٹے میں ہوا کی تجویز کیسے کروں وہ تو پکڑی نہیں جاتی اس کی صورت مجسم ہوتی تو البتہ اس کو پکڑا جا سکتا تھا۔" حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا:" اے ابا جان ! اس کو پکڑ کر حاضرکرنا بہت آسان ہے آپ کی دعا ہی کافی ہے آپ دعا کریں  خدا کے حکم سے ہوا صورت شخص بن کر خود ہی  آپ کے پاس حاضر ہو جاے گی۔" یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالی سے  دعا مانگی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کے ساتھ آمین کہی ۔ تو اسی وقت خدا کے حکم سے ہوا بصورت شخص ہو کر  حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئی۔ 

The presence of air in human form

Then Hazrat Dawood (PBUH) called Hazrat Sulaiman (PBUH) and said: O son, how can I suggest the wind? "Father John! It is very easy to grab it and present it. Your prayer is enough. Pray. By the command of God, the person will come to you as a person. ”Hearing this, Hazrat Dawood (AS) prayed to Allah Almighty. And Hazrat Sulaiman (peace be upon him) said Amen with them. At that moment, she came to Hazrat Dawood (PBUH) as a person by the command of God.

بڑھیا کا آٹا اور کشتی

تب بڑھیا نے ہوا سے اپنے آٹے کا دعویٰ کیا اور ہوا نے اس کا یہ جواب دیا کہ:" یا نبی اللہ ! میں نے جو کیا تھا وہ خدا کے حکم سے کیا تھا۔" یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا :"وہ کیا ہے بیان کرو ہوا نےاس کا یہ جواب دیا یا نبی اللہ دریا میں ایک قوم کی کشتی تھی اور اس میں ایک سوراخ ہو گیا تھا اور وہ ڈوبنے کے قریب  تھی اور دریا کے سیلا ب کے گرد اب میں آ پڑی تھی۔ اس قوم نے اللہ تعالی کی نذر مانی تھی کہ اگر کشتی اس گرداب سے اللہ تعالی بچا لے گا تو اس کشتی کا سب مال خدا کی راہ میں فقیروں اور محتاجوں کو دیں گے۔ اسی وقت اللہ تعالی نے مجھ کو حکم دیا کہ تو اس بڑھیا کا آٹا لے کر اس کشتی کے سوراخ کو بند کر دے ت کہ یہ کشتی غرق ہونے سے بچ جائے۔" حاصل کلام یہ ہے کہ چند روز کے بعد وہ کشتی کنارے پر آلگی اور ادھر حضرت داؤد علیہ السلام کو خبرہوئی کے ایک کشتی  دریا کے کنارے آ پہنچی ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے سب مال نذر کا کشتی سے منگوا کر آدھا فقیروں اور محتاجوں کو دیا اور آدھا مال اس بڑھیا کو دیا کہ جس کے آٹے سے اس کشتی کا سوراخ ہوا نےبند کیا تھا۔

Old woman's flour and boat

Then the old woman claimed her flour from the wind and the wind replied to her: "O Prophet of Allah! I did what I did by the command of God." Upon hearing this, David (peace be upon him) said: “Explain what it is. The wind answered and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, This person had made a vow to Allah Almighty that if Allah Almighty saves the ark from this whirlpool, then all the wealth of this ark will be given to poor and needy in the way of Allah. He ordered me to take the old woman's flour and close the hole in the boat so that it would not sink. " The bottom line is that after a few days, the boat came ashore and, on the other hand, a boat came to the shore of the river which had informed Hazrat Dawood (as). Hazrat Dawood (PBUH) asked for all the wealth from the boat and gave half of it to the poor and needy and gave half of the money to the old woman from whose flour the hole in the boat was closed.

بڑھیا کی نیکی

حضرت داؤد علیہ السلام نے اس بڑھیا سے پوچھا:" تم نے خدا کی کیا اطاعت و بندگی کی تھی جو تجھ کو اتنا مال ملا۔" وہ بڑھیا بولی کے میں نے خدا کی بندگی نہیں کی تھی مگر ایک دن ایک فقیر بھوکا  پیا سا میرے پاس آیا اس نے کھانے کا سوال کیا تو اس وقت میرے پاس روٹی تھی چنانچہ میں نے وہ روٹی اس کے حوالے کردی اور اس فقیر نے اس روٹی کو کھا کر مجھ سے کہا: "میں بہت بھوکا ہوں اور بہت دور سے آیا ہوں اس روٹی سے  میری بھوک نہیں ختم ہوئی  کچھ اور دیجیے۔" میں نے کہا تم ذرا ٹھہرو میں ابھی آٹا پیس کر روٹی پکا دیتی ہوں یہ کہہ کر میں آٹا پیس کر اپنے سر پر رکھ کر لا رہی تھی کہ راستے میں ہوا تیز چلی اور وہ سب اٹا اڑا کر لے گئی۔ اس بھو کے فقیر کی وجہ سے میں آپ کے پاس فریاد کرنے آئی تھی اور اتنا مال خدا کی مہربانی سے  آپ کے ہاتھ سے مجھ کو ملا ہے۔ تو اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آ ے اور کہا کہ اس بڑھیا کو کہو کہ اتنا مال جو تو نے پایا اس آٹے کا بدلہ ہے جو ہوا  اڑا کر لی گئی تھی۔ اوراس روٹی کے بدلے جو تو نے اس فقیر کو دی تھی اس کا بدلے آخرت میں ستر روٹیاں ملیں گی۔ 

The goodness of the old woman

David (peace be upon him) asked the old woman: "What obedience and devotion did you get to God that gave you so much wealth?" He said, "I did not worship God, but a poor man came to me hungry and thirsty one day. He asked for food. I had bread at that time, so I gave him that bread. After eating the bread, he said to me: "I am very hungry and I have come from far away. This bread has not satisfied my hunger. Give me something else." I said, "Wait a minute, I will grind the flour and bake the bread. I was grinding the flour and putting it on my head. The wind blew fast on the way and all the flour was blown away." Because of this hunger, I have come to you to cry and I have received so much wealth from your hands by the grace of God. At that time Gabriel (peace be upon him) came to David (peace be upon him) and said: Tell this old woman that all the wealth you have got is the reward of the flour which was blown away. And in exchange for the bread which you gave to this poor man, you will get seventy loaves in the Hereafter.




Online Social Media Jobs That Pay $25 - $50 Per Hour. No Experience is Required. Work At Home. 



Post a Comment

0 Comments