A nation of monkeys بندر بننے والی قوم



اس بلاگ میں ایسی قوم کی کہانی کو بیان کیا جائے گا جن کو اللہ تعالی نے نافرمانی کے سبب ان کے چہروں کو مسخ کر دیا یہ قوم کس گناہ کے سبب بندر بنی ۔ اور پھر ان کے ساتھ کیا ہوا،اس واقعے کو مختصر الفاظ میں آپ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے لیکن اس واقعے کو متن کے ساتھ سمجھنے کے لیے واقعے کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔ 

This blog will tell the story of a nation in which Allah Almighty disfigured their faces due to their disobedience. And then what happened to them, the incident is briefly described to you but to understand the incident with the text it is important to know the background of the incident.

پس منظر

یہ واقعہ حضرت داود علیہ اسلام کے زمانے کا ہے ۔ جب حضرت  داود علیہ اسلام بلائے نا گہانی میں مبتلا ہوئے تو ایک قبیلے نے قوم بنی اسرائیل سے علیحدہ ہو کردریا کے کنارے پر آباد ہو گئے ۔ اور حضرت داود علیہ اسلام جب مصیبت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے موقع کو غنیمت جان کر اکثر احکام توریت کو چھوڑ کر خلاف شرح کا م شروع کردئیے تھے۔ جن کاموں سے اللہ تعالی نے ان کو منع کیا تھا ان کاموں میں سے ایک کام یہ بھی تھا کہ وہ ہفتے کو شکار نہ کریں  اورنہ دنیا کی کوئی خریدوفروخت کریں یہ سب چیزیں کتاب تورات میں  حرام تھیں۔ ان لوگوں نے کوئی پرواہ نہ کی اور ان حرام کردہ چیزوں پر کاربند ہو گئے جن سے ان کو منع کیا گیا تھا۔ 

background

This incident dates back to the time of Hazrat Dawood (as). When Hazrat Dawood (as) was caught unawares, a tribe separated from the nation of Israel and settled on the banks of the river. And when Hazrat Dawood (PBUH) got into trouble, he seized the opportunity and left the Torah, and started working against the rules. One of the things that Allah (SWT) forbade them to do was not to hunt on Saturdays or to buy or sell anything in the world. All these things were forbidden in the Torah. These people did not care and adhere to the forbidden things which were forbidden to them.

قوم کی آزمائش

جب اس قوم نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی شروع کی تو پھر ان کے واسطے اللہ تعالی نے بطور آزمائش دریا کی مچھلیوں کو حکم دیا کہ ہفتے کے دن دریا سے نکل کر ساحل پر آکر اپنے کھیل کود میں مشغول ر ہیں اورباقی دونوں میں دریا میں جا  ر ہیں۔ پس اللہ تعالی کے حکم سے مچھلیاں ہفتے کے دن دریا سے نکل کر کنارے پر آ کر پھرتی رہتی تھیں اور اس کے علاوہ دوسرے دنوں میں دریا میں جاتیں۔ آخر یہودیوں نے ان کو دیکھ کر لالچ سے ایک حیلہ کیا کہ انہوں نے دریا کے کنارے پر نہر کھود کر وہاں پر اپنے جال ڈالے۔ کیوں کہ ہفتے کے دن مچھلیاں دریا سے نکل کر کھیل کود کے لیے باہر نکلتی تھیں اور شام کے وقت پھر دریا میں چلی جاتی تھیں۔ آخر وہ سب ہفتے کے دن نہر میں جال ڈال کر رکھتے اور صبح اٹھ کر حسب ضرورت اپنی آرزو کے مطابق کھاتے تھے۔ قرآن مجید میں اس واقعے کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:  "اور پوچھ ان سے احوال اس بستی کا  کہ جو تھے کنارے دریا کے جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں اور جب آنے لگیں ان پر مچھلیاں ہفتے کے دن پانی کے اوپر اور جس دن ہفتہ نہ ہو تووہ نہ آئیں یوں ہم آزمانے لگے اس واسطے کے وہ لوگ بے حکم تھے۔ اور جب بولا ایک فرقہ ان میں سے کہ کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو کہ جس کو اللہ تعالیٰ  ہلا ک کرے یا ان پر عذاب مسلط کرے اور وہ لوگ یہ سن کر سخت بولےکہ تم ہم کو ڈراتے ہو ہم ہر طریقہ سے طاقتور ہیں ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا."

The test of the nation

When these people started disobeying God, then for them, as a test, God commanded the fish of the river to come out of the river on Saturday and come to the shore to play their game and go to the river in the other two. ر ہیں۔ So, by the command of Allah Almighty, the fish used to come out of the river on Saturdays and come back to the shore and also go to the river on other days. When the Jews saw him, they were so greedy that they dug a canal on the bank of the river and set their nets there. Because on Saturdays, the fish would come out of the river to play and in the evening they would go back to the river. After all, they would put nets in the canal on Saturdays and get up in the morning and eat as much as they wanted. Allah says in the Qur'an concerning this incident: And they did not come until the Sabbath, so We tried them because they were disobedient. Let them inflict punishment and when they hear you say, "You are frightening us, we are powerful in every way. Nothing can harm us."

عذاب الہی

لیکن پھر بھی نصیحت کرنے والوں نے ان کو برابر نصیحت کی جب انہوں نے کسی طرح سے بھی نہ مانا اور برابر خلاف شرع کام کرتے رہے پھر ان کو عذاب الٰہی نے آ پکڑا محض اسی وجہ سے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتے تھے۔ اور نصیحت کرنے والے کی نصیحت پر عمل نہیں کرتے تھے اور پھر جن کاموں سے منع کیا تھا اسی کے کہنے پر برابر گامزن رہے۔ پھر اس نافرمانی کی بدولت اللہ تعالی نے ان کے چہروں کو مسخ کر دیا اور ذلیل وہ خوار ہوئے۔ 

Divine torment

But still, shari'ah the admonishers gave them the same advice when they did not obey in any way and continued to act against the shari'ah then the punishment of Allah overtook them only because they disobeyed their Lord. And they did not follow the advice of the admonisher, and then they continued to follow the advice of the one who forbade them. Then, due to this disobedience, Allah Almighty distorted their faces and humiliated them.

قوم کا بندر میں  تبدیل ہونا

پھر اللہ تعالی نے ان کو بندر بنا دیا اور ان میں تین فرقے ہو گئے۔ ایک تو ان میں وہ تھے کہ جو شکار کرتے تھے اور دوسرے لوگ وہ تھے جو باز آ گئے تھے نافرمانیوں سے برابر منع کرتے رہتے تھےاورتیسرے وہ لوگ تھے جو منع  کرنے سے تھک گئے تھے اور منع کرنا چھوڑ بیٹھے تھے۔ لیکن وہ بہتر تھے جو برابر منع کرتے رہے اور منع کرنے والوں نے شکار کرنے والوں سے ملنا چھوڑ دیا۔ ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی تو دیوار پر چڑھ کر دیکھا کہ ہر گھر میں بندر ہی بندر نظر آ رہے ہیں  اور ان کی کیفیت یہ تھی کہ وہ آدمی پہچان کر اپنے قرابت والوں کے پاؤں پر سر اپنا رکھتے اور پھر رونے لگتے۔ بلا آخر وہ اپنے برے حال سے تین دن میں سب کے سب مر گئے کتاب توریت میں اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ جب تم حکم  توریت کو چھوڑ دو گے تو تم پر اور لوگ مسلط ہوں گے اور قیامت تک ذلیل رہو گے۔ اب تم غور کرو گے کہ روئے زمین پر یہودیوں کی کہیں بھی حکومت نہیں اوروہ غیر کی رعیت ہیں۔

The transformation of the nation into a monkey

Then Allah Almighty made them monkeys and they became three sects. On the one hand,, some hunted, and on the other, some refrained from forbidding disobedience and on the other, some were tired of forbidding and refrained from forbidding. But they were the ones who kept on forbidding and those who forbade stopped meeting the hunters. One day when he woke up in the morning and did not hear the voices of others, he climbed on the wall and saw that monkeys were seen in every house. Start crying In the end, they all died in three days due to their bad condition. In the book of Torah, Allah Almighty had said that when you leave the command of Torah, other people will be imposed on you and you will be humiliated till the Day of Resurrection. Now you will notice that the Jews have no government anywhere on earth and they are the subjects of the Gentiles.

خلاصہ

پس اے مومنو سبب نہ فرمانی خداوند قدوس نے بنی اسرائیل کے چہرہوں اور بدن کو مسخ کر دیا یعنی مسخ  ہو کر وہ بصورت بندر ہوگئے۔ اور ہم لوگ چونکہ خاتم النبییین کی امت میں ہیں اس لئے اس زمانے میں گناہ کرنے کے باوجود بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے مسخ نہیں کیے جاتے لیکن یہ یاد رکھیں کہ قیامت کے دن اس نافرمانی کی سزا ذلت مسخ سے کم نہ ہوگی۔ یا اللہ تو ہمیں نیکیوں کی توفیق عطا فرما اور دین اسلام پر ثابت و قائم رکھ اور ہمارے سارے گناہ معاف فرما ۔آمین 

Abstract

So, O you who believe! The Holy Lord disfigured the faces and bodies of the children of Israel, that is, they became like monkeys. And since we are in the ummah of Khatam-un-Nabiyyin, despite committing sins in this age, we are not distorted because of the supplication of the Holy Prophet, but remember that on the Day of Resurrection, the punishment for disobedience is disgrace Will not be less O Allah, grant us success in good deeds and keep us steadfast on the religion of Islam and forgive us all our sins. Amen.



Find out how a simple 5 second daily habit can control your erratic blood sugar levels for life.



Post a Comment

0 Comments